Khizr-e-rah Monthly ➤
khizr-e-rah-June-2015➤
شیخ احمد زروق مالکی Download_Pdf
تصوف کی اصل
۶۔قاعدہ
اگرکوئی اصطلاح بنائی جائے اور لفظ ایسا ہوکہ اس سے اصطلاحی معنی اورشئے کی حقیقت کاپتاچل جائے ، یوںہی لفظ کی موضوع سے مناسبت اورمعنی سے موافقت اور ہم آہنگی ہو، پھراس لفظ میں نہ تو کسی قسم کاالتباس ہو ،نہ اس کی وجہ سے کسی عرفی اور شرعی قاعدے میں کمی اورخلل واقع ہو،اورنہ اصل وعرف سے تعلق رکھنے والے کسی موضوع کا ازالہ ہو،اورنہ وہ لفظ حکم سے تعلق رکھنے والے کسی فرع اورمسئلے سے ٹکڑاتا ہو، ساتھ ہی اس لفظ کی ظاہری ومعنوی ترکیب اورلفظی ضبط وتحقیق درست ہوتو ایسی اصطلاح کا انکار اور اس کی تردید کی کوئی وجہ نہیں۔
لفظ تصوف کاتعلق بھی ایسی ہی اصطلاح سے ہے، کیوںکہ تصوف بامعنی عربی لفظ ہے اور ترکیبی لحاظ سے مکمل بھی،نہ تو اس میں ابہام ہے،نہ التباس اور نہ ہی ایہام۔
لفظ تصوف لغوی اور اشتقاقی لحاظ سے ہی اپنے اصطلاحی معنی یعنی اسلامی احکام،ظاہری اعمال کی فقہ اور ایمان کے احکام اوراعتقادات کی تحقیق کے اصول کو بتلاتاہے، کیوںکہ جو باتیں اسلام وایمان کے لیے ضروری ہوںگی وہ تصوف میں بھی ضروری ہوںگی،اس لیے کہ جو اسلام وایمان کی اصل ہے وہی تصوف کی اصل ہےاور جہاں سے اسلام و ایمان کی کونپلیں نکلتی ہیں وہیں سے تصوف کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔
۷۔قاعدہ
کسی لفظ کی کسی لفظ سے بناوٹ کاتقاضا یہ ہے کہ جو لفظ بنایا گیا ہے اورجس سےبنایاگیاہے،دونوں کے معنی کا لحاظ اور اس کی رعایت کی جائے اوردونوں میں آپسی تعلق ہو ۔ اس طرح سےمشتق کامعنی اس کے لفظ ظاہری سے ہی معلوم ہوجائے،اب اگر لفظ کاماخذ متعدد ہوگاتو اس کا معنی بھی مختلف ہوگا،اگر کسی لفظ کے سارے اشتقاقی ولغوی معانی کو ایک ساتھ مراد لیاجانا ممکن ہو تو اس لفظ کو ان تمام الفاظ سے ماخوذ قرار دیاجاسکتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو مختلف اشتقاقی اورلغوی معانی اورمناسبتوں کے لحاظ سے الگ الگ معانی کو مراد لیاجاسکتاہے۔بشرطیکہ بنیادی طورپر ان تمام معانی میں کوئی آپسی ٹکراؤ نہ ہو۔
لفظ تصوف کالغوی حیثیت سے بنیادی ماخذ کیاہے اور یہ لفظ کہاں سےآیاہے،اس سلسلے میں بہت سے اقوال ہیں اور وہ سب اقوال درحقیقت پانچ میں جمع ہیں :
۱۔لفظ تصوف صوفہ سے نکلا ہے اور دونوںکے معنی میں مناسبت یہ ہے کہ صوفی رب تعالیٰ کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے پھینکا ہواکپڑے کاٹکڑا،جس کانہ اپنا کوئی اختیار ہوتاہےاورنہ اس کی اپنی کوئی تدبیر ہوتی ہے۔
۲۔تصوف صوفۃ القفا سے بناہے،کیوں کہ اس میں نرمی ہوتی ہے اور صوفی بھی اسی طرح نرم مزاج ہوتا ہے۔
۳۔لفظ تصوف صفت سے ماخوذ ہے اور دونوں میں مناسبت یہ ہے کہ تصوف اچھی صفات واخلاق سے آراستہ ہونے اور بری صفات واخلاق کو ترک کرنے کانام ہے۔
۴۔تصوف صفا سے بنا ہے اور اس قول کو صحیح تسلیم کیاگیا ہے،چنانچہ ابوالفتح بستی فرماتے ہیں:
۲۔لیکن میں تویہ نام اسی نوجوان کو دوںگا جس نے اپنے آپ کو صاف وستھرا اور پاکیزہ بنانے کی کوشش کی تو اُسے پاک کردیا گیا یہاں تک کہ اس کا نام صوفی رکھ دیاگیا۔
۵۔تصوف صفہ سے ماخوذ ہے اور تصوف وصفہ میں تعلق یہ ہے کہ تصوف اختیار کرنے والا اس صفت میں جواللہ تعالیٰ نے اہل صفہ کے لیے بیان فرمائی ہے اہل صفہ کے تابع ہوتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
تصوف کے ماخذ کے سلسلے میں جتنے بھی اقوال ہیں ان سب کی اصل اورسب کا مرجع یہی قول ہے۔ویسے حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر طورپر جانتا ہے۔
۶۔قاعدہ
جس صفت میں تابع اپنے متبوع سے ملحق ہوتا ہے، اس صفت میں تابع کا حکم متبوع ہی کی طرح ہوتا ہے اگرچہ متبوع افضل ہوتاہے۔
ابتدائی زمانے میں اصحاب صفہ فقیرتھے ،اسی لیے ان کو اللہ کے مہمان کے لقب سے یاد کیاجاتا تھا،بعدمیں ان میں سے کچھ لوگ مالدارہوئے،کچھ امیرمقرر ہوئے،کچھ لوگوں نے سبب وکسب اختیارکیااورکچھ لوگ فقیرہی رہے ، لیکن جب وہ صاحب استطاعت ہوئے تو اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے شکر اداکیااور جب دنیاکی نعمتیں ان کے پاس نہیں تھیں تو صبرکیا۔
چنانچہ جب وہ مالدار اورصاحب استطاعت ہوگئے، اس کے بعد بھی نہ تومال کی بنا پر وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ الخ کی جماعت سے خارج ہوئے اور نہ پہلے صرف دنیوی نعمتوں سے محرومی کی بناپر ان کی تعریف کی گئی،بلکہ رضائے الٰہی کا ارادہ رکھنے کی وجہ سے ان کی تعریف وتوصیف کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کاارادہ حالت فقر وغنامیں سے کسی کے ساتھ مقید نہیں ہے،چنانچہ فقیر ہوںیا غنی اگر اللہ کی رضا کے طلب گار ہوںتودونوںصوفی ہیں،لہٰذا تصوف نہ فقر کی حالت کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی غنا کے ساتھ۔
۹۔قاعدہ
نسبتوں میں اختلاف کبھی حقیقتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی ایک ہی حقیقت کے مراتب میں اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے۔
چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ تصوف ،فقر ،ملامت اور تقرب جیسے مختلف الفاظ واصطلاحات کی حقیقتوںمیں اختلاف پایا جاتا ہےاور اسی لیے نسبتیں بھی مختلف ہیں،(اسی لیے کسی کو صوفی ،کسی کو فقیر وملامتی تو کسی کو مقرب کہاجاتا ہے۔) جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ ان اصطلاحات کی حقیقتوں میں کوئی اختلاف نہیں،ان کی حقیقتیں ایک ہیں لیکن ان کے مراتب اور ان کی حیثیتیں مختلف ہیں اور یہی دوسرا قول صحیح ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفی، حق تعالیٰ کے ماسوا سے اپنے وقت کو پاک کرنے کی کوشش کرنے والا ہوتا ہے۔
چنانچہ جب حق تعالیٰ کا غیر اس کے ہاتھوں سے دور ہوجاتاہے تواس حیثیت سےوہ فقیر کہلاتاہے اور ملامتی وہ ہوتا ہے جو نہ کسی نیکی کااظہارکرتا ہے اورنہ کسی شر کو اپنے اندر چھپاکررکھتا ہے جیسے وہ اصحاب طریقت جو حرفت واسباب وغیرہ کو اختیار کرتے ہیں اور مقرب وہ کہلاتاہے جو اپنے احوال میں کامل ہو ،چنانچہ وہ اپنے رب کے لیے اپنے رب کے ساتھ قائم ہوتا ہے نہ تو اس کو ماسوا کی کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ غیراللہ کے ساتھ اس کو ذرا بھی قرارملتا ہے۔
تصوف کی اصل
حضرت شیخ احمد زروق فاسی مالکی (۸۴۶-۸۹۹ھ)اپنے عہدمیںشریعت وطریقت کے امام گزرے ہیں،آپ کی تصنیفات میں عدۃ المریدالصادق اورقواعدالتصوف امتیازی شان رکھتی ہیں۔خاص طورسے ’’قواعد التصوف‘‘ فقہ و تصوف کے باہمی رشتوں کی وضاحت اورتصوف کے اصول وضوابط کے بیان پر بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔
مولاناضیاء الرحمن علیمی (ا ستاذ جامعہ عارفیہ) اس کا ترجمہ کررہے ہیں۔عوام وخواص کے علمی افادے کی غرض سےیہ ترجمہ ترتیب وار پیش کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
مولاناضیاء الرحمن علیمی (ا ستاذ جامعہ عارفیہ) اس کا ترجمہ کررہے ہیں۔عوام وخواص کے علمی افادے کی غرض سےیہ ترجمہ ترتیب وار پیش کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
۶۔قاعدہ
اگرکوئی اصطلاح بنائی جائے اور لفظ ایسا ہوکہ اس سے اصطلاحی معنی اورشئے کی حقیقت کاپتاچل جائے ، یوںہی لفظ کی موضوع سے مناسبت اورمعنی سے موافقت اور ہم آہنگی ہو، پھراس لفظ میں نہ تو کسی قسم کاالتباس ہو ،نہ اس کی وجہ سے کسی عرفی اور شرعی قاعدے میں کمی اورخلل واقع ہو،اورنہ اصل وعرف سے تعلق رکھنے والے کسی موضوع کا ازالہ ہو،اورنہ وہ لفظ حکم سے تعلق رکھنے والے کسی فرع اورمسئلے سے ٹکڑاتا ہو، ساتھ ہی اس لفظ کی ظاہری ومعنوی ترکیب اورلفظی ضبط وتحقیق درست ہوتو ایسی اصطلاح کا انکار اور اس کی تردید کی کوئی وجہ نہیں۔
لفظ تصوف کاتعلق بھی ایسی ہی اصطلاح سے ہے، کیوںکہ تصوف بامعنی عربی لفظ ہے اور ترکیبی لحاظ سے مکمل بھی،نہ تو اس میں ابہام ہے،نہ التباس اور نہ ہی ایہام۔
لفظ تصوف لغوی اور اشتقاقی لحاظ سے ہی اپنے اصطلاحی معنی یعنی اسلامی احکام،ظاہری اعمال کی فقہ اور ایمان کے احکام اوراعتقادات کی تحقیق کے اصول کو بتلاتاہے، کیوںکہ جو باتیں اسلام وایمان کے لیے ضروری ہوںگی وہ تصوف میں بھی ضروری ہوںگی،اس لیے کہ جو اسلام وایمان کی اصل ہے وہی تصوف کی اصل ہےاور جہاں سے اسلام و ایمان کی کونپلیں نکلتی ہیں وہیں سے تصوف کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔
۷۔قاعدہ
کسی لفظ کی کسی لفظ سے بناوٹ کاتقاضا یہ ہے کہ جو لفظ بنایا گیا ہے اورجس سےبنایاگیاہے،دونوں کے معنی کا لحاظ اور اس کی رعایت کی جائے اوردونوں میں آپسی تعلق ہو ۔ اس طرح سےمشتق کامعنی اس کے لفظ ظاہری سے ہی معلوم ہوجائے،اب اگر لفظ کاماخذ متعدد ہوگاتو اس کا معنی بھی مختلف ہوگا،اگر کسی لفظ کے سارے اشتقاقی ولغوی معانی کو ایک ساتھ مراد لیاجانا ممکن ہو تو اس لفظ کو ان تمام الفاظ سے ماخوذ قرار دیاجاسکتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو مختلف اشتقاقی اورلغوی معانی اورمناسبتوں کے لحاظ سے الگ الگ معانی کو مراد لیاجاسکتاہے۔بشرطیکہ بنیادی طورپر ان تمام معانی میں کوئی آپسی ٹکراؤ نہ ہو۔
لفظ تصوف کالغوی حیثیت سے بنیادی ماخذ کیاہے اور یہ لفظ کہاں سےآیاہے،اس سلسلے میں بہت سے اقوال ہیں اور وہ سب اقوال درحقیقت پانچ میں جمع ہیں :
۱۔لفظ تصوف صوفہ سے نکلا ہے اور دونوںکے معنی میں مناسبت یہ ہے کہ صوفی رب تعالیٰ کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے پھینکا ہواکپڑے کاٹکڑا،جس کانہ اپنا کوئی اختیار ہوتاہےاورنہ اس کی اپنی کوئی تدبیر ہوتی ہے۔
۲۔تصوف صوفۃ القفا سے بناہے،کیوں کہ اس میں نرمی ہوتی ہے اور صوفی بھی اسی طرح نرم مزاج ہوتا ہے۔
۳۔لفظ تصوف صفت سے ماخوذ ہے اور دونوں میں مناسبت یہ ہے کہ تصوف اچھی صفات واخلاق سے آراستہ ہونے اور بری صفات واخلاق کو ترک کرنے کانام ہے۔
۴۔تصوف صفا سے بنا ہے اور اس قول کو صحیح تسلیم کیاگیا ہے،چنانچہ ابوالفتح بستی فرماتے ہیں:
تَخَالَفَ النَّاسُ فِی الصُّوْفِی وَاخْتَلَفُوْا جَہْلًا وَظَنُّوْہُ مُشْتَقًّا مِنَ الصُّوْفِی وَلَسْتُ انَحَلُ ہٰذَالْإسْمَ غَیْرَ فَتًی صَافٰی فَصُوْفِیَ حَتّٰی سُمِّیَ الصُّوْفِی۱۔لاعلمی کی وجہ سے صوفی کی لغوی اصل کے بارے میں لوگوں کا بڑا اختلاف ہے اور کچھ لوگوں نے اس کو صوف اُون سے مشتق قراردیاہے۔
۲۔لیکن میں تویہ نام اسی نوجوان کو دوںگا جس نے اپنے آپ کو صاف وستھرا اور پاکیزہ بنانے کی کوشش کی تو اُسے پاک کردیا گیا یہاں تک کہ اس کا نام صوفی رکھ دیاگیا۔
۵۔تصوف صفہ سے ماخوذ ہے اور تصوف وصفہ میں تعلق یہ ہے کہ تصوف اختیار کرنے والا اس صفت میں جواللہ تعالیٰ نے اہل صفہ کے لیے بیان فرمائی ہے اہل صفہ کے تابع ہوتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْہُمْ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰیہُ وَ کَانَ اَمْرُہ فُرُطًا (۲۸) (کہف)ترجمہ:اپنے آپ کو ان لوگوں کی صحبت میں جماکررکھیں جو صبح وشام اپنے رب کو اُس کی رضا حاصل کرنےکے ارادے سے یاد کرتے ہیںاور دنیوی زندگی کی زیب و زینت کی وجہ سے اپنی آنکھیں ان سےنہ پھیریںاور اس کی پیروی نہ کریںجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے،جو اپنی نفسانی خواہش کاپیروکار ہے اور جس کا معاملہ حد سے گزراہوا ہے۔
تصوف کے ماخذ کے سلسلے میں جتنے بھی اقوال ہیں ان سب کی اصل اورسب کا مرجع یہی قول ہے۔ویسے حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر طورپر جانتا ہے۔
۶۔قاعدہ
جس صفت میں تابع اپنے متبوع سے ملحق ہوتا ہے، اس صفت میں تابع کا حکم متبوع ہی کی طرح ہوتا ہے اگرچہ متبوع افضل ہوتاہے۔
ابتدائی زمانے میں اصحاب صفہ فقیرتھے ،اسی لیے ان کو اللہ کے مہمان کے لقب سے یاد کیاجاتا تھا،بعدمیں ان میں سے کچھ لوگ مالدارہوئے،کچھ امیرمقرر ہوئے،کچھ لوگوں نے سبب وکسب اختیارکیااورکچھ لوگ فقیرہی رہے ، لیکن جب وہ صاحب استطاعت ہوئے تو اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے شکر اداکیااور جب دنیاکی نعمتیں ان کے پاس نہیں تھیں تو صبرکیا۔
چنانچہ جب وہ مالدار اورصاحب استطاعت ہوگئے، اس کے بعد بھی نہ تومال کی بنا پر وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ الخ کی جماعت سے خارج ہوئے اور نہ پہلے صرف دنیوی نعمتوں سے محرومی کی بناپر ان کی تعریف کی گئی،بلکہ رضائے الٰہی کا ارادہ رکھنے کی وجہ سے ان کی تعریف وتوصیف کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کاارادہ حالت فقر وغنامیں سے کسی کے ساتھ مقید نہیں ہے،چنانچہ فقیر ہوںیا غنی اگر اللہ کی رضا کے طلب گار ہوںتودونوںصوفی ہیں،لہٰذا تصوف نہ فقر کی حالت کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی غنا کے ساتھ۔
۹۔قاعدہ
نسبتوں میں اختلاف کبھی حقیقتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی ایک ہی حقیقت کے مراتب میں اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے۔
چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ تصوف ،فقر ،ملامت اور تقرب جیسے مختلف الفاظ واصطلاحات کی حقیقتوںمیں اختلاف پایا جاتا ہےاور اسی لیے نسبتیں بھی مختلف ہیں،(اسی لیے کسی کو صوفی ،کسی کو فقیر وملامتی تو کسی کو مقرب کہاجاتا ہے۔) جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ ان اصطلاحات کی حقیقتوں میں کوئی اختلاف نہیں،ان کی حقیقتیں ایک ہیں لیکن ان کے مراتب اور ان کی حیثیتیں مختلف ہیں اور یہی دوسرا قول صحیح ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفی، حق تعالیٰ کے ماسوا سے اپنے وقت کو پاک کرنے کی کوشش کرنے والا ہوتا ہے۔
چنانچہ جب حق تعالیٰ کا غیر اس کے ہاتھوں سے دور ہوجاتاہے تواس حیثیت سےوہ فقیر کہلاتاہے اور ملامتی وہ ہوتا ہے جو نہ کسی نیکی کااظہارکرتا ہے اورنہ کسی شر کو اپنے اندر چھپاکررکھتا ہے جیسے وہ اصحاب طریقت جو حرفت واسباب وغیرہ کو اختیار کرتے ہیں اور مقرب وہ کہلاتاہے جو اپنے احوال میں کامل ہو ،چنانچہ وہ اپنے رب کے لیے اپنے رب کے ساتھ قائم ہوتا ہے نہ تو اس کو ماسوا کی کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ غیراللہ کے ساتھ اس کو ذرا بھی قرارملتا ہے۔
0 تبصرے
اپنی رائے پیش کریں