تصوف اور صوفی
سیدسلمان چشتی
لفظ تصوف اور صوفی کی وجہ تسمیہ کے بارے میں علما کے مختلف اقوال ہیں:
پہلا قول:تصوف ’’الصفاء‘‘سے بناہے جس کے معنی صفائی اورپاکیزگی کے ہیں۔اس کی روسے کسی شئے کو ہر طرح کی ظاہری اور باطنی آلودگی سے پاک وصاف کرکے روشن اورشفاف بنادینا تصوف ہے۔اس اعتبارسے صوفی وہ شخص ہے جس کادل ہربرائی سے پاک اورنفس ہر گندگی سے دورہو۔
دوسرا قول:تصوف ’’الصفو‘‘سے بناہے جس کے معنی محبت اوردوستی میں اخلاص کے ہیں،جیساکہ عربی لُغت ’’المنجد‘‘میں ہے کہ: ’’الصفو‘‘کے معنی محبت میں اخلاص کے ہیں اور صفی سے مراد مخلص دوست ہے۔اس اعتبارسے صوفی وہ شخص ہے جس نے دنیا وآخرت کے اجروثواب سے بے نیاز ہوکرمحبوب حقیقی سے بے لوث محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کرلیا ہواور جس کی تمام ترکوششیں صرف رضائے الٰہی کی طلب کے لیے ہو۔
تیسرا قول: تصوف ’’ صفہ‘‘سے بناہے۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ ابوبکر بن اسحاق بخاری فرماتے ہیں:
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ صوفی کی وجہ تسمیہ اوصاف کے اعتبارسے ’’اصحاب صفہ‘‘سے قریب تر ہوناہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں موجودتھے۔
شیخ احمد الحسینی فرماتے ہیں:یہ ’’صفہ‘‘سے ماخوذ ہے کیونکہ تصوف تمام تر خوبیوں سے متصف ہونے اور اوصاف مذمومہ کے چھوڑدینے پر مبنی ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ لفظ تصوف کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:تصوف میں’’ت‘‘سے مراد توبہ ہے، اس کی دو قسمیں ہیں:
٭توبۂ ظاہری
٭توبۂ باطنی
٭توبۂ ظاہری یہ ہے کہ انسان قولاََاورفعلاََ اپنے تمام اعضائے ظاہری کو گناہوں اوربرائیوں سے ہٹاکراطاعت کی راہ اختیار کرے، نیز خلاف شریعت اعمال سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق عمل کرے۔
٭توبۂ باطنی یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو الائشوں سے پاک رکھے اور شریعت کے موافق اعمال صالحہ کی طرف رجوع کرے۔پھرجب برائی نیکی سے بدل جائے تو’’ت‘‘کا مقام مکمل ہوگیا،یعنی اس کو کامل توبہ نصیب ہوگئی۔
’’ص‘‘سے مراد ’’صفائی ‘‘ہے ،اس کی بھی دوقسمیں ہیں:
٭قلب کی صفائی
٭مقام سرکی صفائی
٭قلب کی صفائی یہ ہے کہ دل اُن بشری کدورتوں سے اورآلائشوں سے پاک ہوجائے جوعموماََدل کے اندرپائی جاتی ہیں،مثلاََ:بکثرت کھانے پینے اور زیادہ جماع وغیرہ،
مقام سر کی صفائی یہ ہے کہ اِن بری عادتوں سے دل کو پاک وصاف رکھنے کے لیے شروع میں شیخ کامل کی تلقین سے بالالتزام ذکر بالجہر کیاجائے،یہاںتک کہ ’’ذکر خفی‘‘ کا مقام حاصل ہوجائے۔
’’و‘‘سے مراد ولایت ہے۔یہ ایک مقام ہے جو تصفیہ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ولایت کا ماحصل یہ ہے کہ انسان اپنے اندر اخلاق الٰہیہ پیداکرے جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:تَخَلَّقُوْابِأخْلَاقِ اللّٰہِ۔
یعنی اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کرو۔
’’ف‘‘سے مراد ’’فنافی اللہ‘‘ہے ۔جب صفات بشری فناہوجاتی ہیں تو صفات باری تعالیٰ باقی رہ جاتی ہیں۔چونکہ اس ذات پاک کو نہ زوال ہے اور نہ ہی فنا،اس لیے عبدفانی کو اس غیرفانی ذات کے ساتھ اور اس کی پسندیدگی اور قبولیت سے ’’باقی باللہ‘‘کا مرتبہ حاصل ہوجاتا ہے اورقلب فانی کو سرباقی کے ساتھ بقا حاصل ہوجاتی ہے۔
داعی اسلام شیخ طریقت ابوسعید احسان اللہ محمدی صفوی (ادام اللہ ظلہ علینا)نے لفظ تصوف کی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:تزکیۂ نفس ،حسن اخلاق اور احسان کے مجموعے کا نام تصوف ہے۔
حضرت ابوعلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :اون کا لباس پہننا اور نفس پرجفاکرنا،دنیاترک کرنا اور سنت کی پیروی کرنا تصوف ہے۔
حضرت ابوسلیمان دارانی فرماتے ہیں:تصوف اس کو کہتے ہیں کہ تمام تکالیف کو من جانب اللہ سمجھ کر صبرکرے اورماسوی اللہ کو ترک کردے۔
حضرت ابومحمدمرتعش فرماتے ہیں:حسن خلق تصوف ہے۔
معلوم ہواکہ تصوف کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے اسلام وسنت کے خلاف کہاجائے ،کیونکہ تصوف والے تو اللہ اور اس کے رسول کے لائے اور بتائے ہوئے طورطریقوں پر چلتے ہیں اور عام مخلوق کو بھی اُن راہوں پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔
کچھ ایسے بھی ہیں جو تصوف سے بیزاری کا اظہارکرتے ہیں،ایسے لوگوں کے لیے سخت سزائیں ہیں،حضرت امام مالک فرماتے ہیں:جوصوفی بنااورعلم سے بے بہرہ رہا وہ زندیق ہوا،اورجو عالم تو بنامگر تصوف حاصل نہ کیا وہ فاسق بنا،بس جس نے دونوں کو حاصل کیا اس نے تحقیق سے کام لیا۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:وہ ہمارے گروہ میں سے نہیں، جس نے کتاب اللہ پر غورنہ کیاہو، اورنبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث میں فہم وبصیرت حاصل نہ کی ہو۔ وہ ہم میں سے نہیں جس نے ایسے علماکی صحبت ترک کردی ہو جو صوفیاہیں اور جن کو کتاب وسنت میں درک ہے۔وہ ہم میں سے نہیںجو ایسے اصحاب علم سے کنارہ کش ہوگیا ہو جو تصوف میں بہرہ رکھتے ہوں اورایسے محدثین کی صحبت میں نہ بیٹھے جومحدثین کے ساتھ فقہابھی ہوں۔وہ ہم میں سے نہیں جس نے ایسے فقہاکی صحبت ترک کردی ہو جو علم حدیث بھی جانتے ہیں۔باقی رہے جاہل صوفیا اور جاہل علما جو تصوف کا انکارکرتے ہیں تو دونوں کے دونوں چوراورراہزن ہیں اور ان سے بچنا چاہئے۔
حجۃ الاسلام امام محمدغزالی تصوف اورصوفیاکے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال مجاہدے کے لیے خلوت گزینی اختیار کی،اسی خلوت کے دوران مجھ پر ایسے امورکا انکشاف ہوا،جس کا احاطہ واندازہ ممکن نہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجھے اس بات کا یقین ہوگیاکہ صوفیائے کرام ہی معرفت الٰہی کی راہ پرگامزن ہیںاور ان کی سیرت سب کی سیرتوںسے بہترہے۔
مولی تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے اور طفیل ہر امت مسلمہ کو تصوف کی حقیقت سے آشناہونے کی توفیق عطافرمائے اور اس پر اچھے طریقے سے چلنے کی توفیق بخشے۔(آمین بجاہ سید المرسلین)


0 تبصرے
اپنی رائے پیش کریں