Alehsan Media is a blog working as news portal. having Sufi thoughts and moderate views unbiased to any one, trying to be a good example of a clean journalism by presenting news, audios videos photos, articles, magazines and essays of beneficial nature. Our mission is To strive for cleansing of unhealthy journalism. To work towards creation of news portals characterized by a healthy journalism

Spreading Peace and Truth

Latest News

Post Top Ad

Your Ad Spot

18 October 2018

جامعہ عارفیہ کے سابق مہمان استاذ شیخ عبد اللہ البنا کے تاثرات

جامعہ عارفیہ کےسابق مہمان استاذ ازہری مبعوث قاری ومقری شیخ عبداللہ البنا کا شیخ الجامعہ،اساتذہ وطلبا کے حوالے سےتأثر

اللہ رب العزت کی مشیت سے میں جامعہ عارفیہ، سید سراوں، الٰہ آباد، ہند میں جامعہ ازہر کی طرف سے بحیثیت مہمان استاذ حاضر آیا، اس سے قبل میں مہمان استاذ کی حیثیت سے دو سال کے لیے ملیشیا گیا ہوا تھا لیکن حالات کے پیش نظر میری مقررہ میعاد وہاں مکمل نہ ہوسکی، اس کی وجہ سے میں بہت غمگین تھا لیکن انسان نہ غیب کی خبررکھتا ہے اور نہ اسےاس بات کاعلم ہے کہ خیر کہاں پوشیدہ ہے، اللہ جل شانہ کاارشاد ہے: وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرة،216) اور ممکن ہےتم کسی چیز کو نا پسند کرو اور وہ حقیقـتا تمہارے لیے بہتر ہو اور یہ بھی ممکن ہےکہ تم کسی چیزکوپسند کرو وہ تمہارے لیے بری ہو، اللہ کے پاس ہی حقیقی علم ہے تمہارے پاس علم نہیں۔
مجھےکیا معلوم تھا کہ خداوند قدوس نے میرے لیے جامعہ عارفیہ میں ذخیرۂ خیر رکھا ہے، گویا اس پروردگار کا مجھےملیشیا کی تدریسی خدمت سے محروم کردینا میرے حق میں عین جود وعطا تھا؛ کیوں کہ اس طرح مجھے اس عظیم جامعہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، جب یہاں حاضر ہوا تو ارباب جامعہ نے میرا ایک ازہری مبعوث کے شایان شان استقبال کیا، سب لوگ گرم جوشی اور بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ پیش آۓ اور حسن ضیافت کا خوب مظاہرہ کیا، ان میں حضرت شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی سرفہرست ہیں۔ عمدہ ضیافت اور کرم نوازیوں کے بعد میں نےجامعہ عارفیہ میں حفظ و تجوید کے استاذ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سنبھالی تویہاں کے مشاہدات نےمجھے حیران و ششدر کر دیا میں نے یہاں حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کیا:
میں نے ایک ایسے باوقار شیخ کو دیکھا جن میں صالحین کی علامتیں، اہل اللہ کی خصلتیں اور پاکیزہ شخصیات کی صفتیں موجود ہیں، اللہ نےانھیں علم کے ساتھ حلم کی عظیم دولت سے سرفراز فرمایاہے، انہوں نے اپنے معلمین کی اچھی تربیت کی ہے، انھیں حسن ادب سے بھی آراستہ کیا ہے، ان میں بلند اخلاق وکردار کی شجرکاری کی ہے اور انہیں ذوقی بالیدگی اور محاسن و فضائل کے جام شیریں سےسیراب کیا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ عبادتوں میں ان کے امام اور اخلاق و طاعات میں ان کے لیے اسوہ اورمثال ہیں۔ ان کے دست مبارک پر سیکڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں، ان کی شہرت خوب پھیلی ہوئی ہے اور ان کی خوشبو ہرایک کومعطر کررہی ہے۔ اس کے باوجود تواضع وخاکساری کا یہ عالم ہے کہ وہ اساتذہ کے مابین انھیں میں کا ایک فرد معلوم ہوتے ہیں، وہ اپنی اعلی قدر و منزلت کے باوصف اساتذہ کے قریب رہتے ہیں اور اساتذہ ان کی تعظیم وتوقیر کے پیش نظر گفتگو میں پہل نہیں کرتے ہیں۔
وہ ایک مستقل مزاج اور دھن کے پکے شخص ہیں، وہ خیروفلاح کےمعاملے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اور جامعہ کی ترقی کےحوالے سے ان کی رفتار کبھی سست نہیں پڑتی۔ وہ جامعہ کو ایسے منہج پر چلارہے ہیں جس کا مقصود ومنتہا ا سلام اورمسلمانوں کی عظمت و سربلندی ہے۔ میں خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ وہ ان کی عمر کو دراز فرمائےتاکہ جامعہ اپنے اہداف ومقاصد میں پایۂ تکمیل تک پہنچے۔
جہاں تک اساتذہ ومعلمین کی بات ہے تو میں نےانھیں کیا ہی خوب پایا! وہ حسن اخلاق کے پیکر اور بلند طبیعت کےمالک ہیں، وہ اپنے طلبہ کے لئے انتہائی متواضع اور منکسر المزاج ہیں، ان کا علم حلم و بردباری سے مزین ہےاورا ن کی گفتگو ادب و شائستگی سے پرہوا کرتی ہے۔ وہ تعلیم سے پہلےطلبہ کی تربیت پرتوجہ دیتے ہیں اور درس وتدریس سے پہلےاخلاق و کردار سے آراستہ کرتے ہیں۔ وہ تواضع وانکساری کے ساتھ بہ رضا و رغبت اپنے طلبہ کے پہلو بہ پہلو بیٹھتے ہیں اس کے باوجود طلبہ انہیں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس لیے کہ انہوں نےعلم سے پہلے اپنےاساتذہ سے اخلاق و محاسن کی تعلیم لی ہے۔
رہی بات یہاں کے طلبہ کی توان کوئی جواب ہی نہیں، جب بھی میں انہیں دیکھتا ہوں تو میراذہن و فکرعہد تابعین کےتصورمیں گم ہو جاتا ہے، میں نےانھیں دنیا سے بے رغبت اورعلم کا حریص پایا، وہ زمین پر بیٹھتے ہیں لیکن حصول علم کے وقت وہ آسمان علم کےشہ سوار ہوتے ہیں، اذان ہوتی ہے اور طاعت وعبادت کی بات آتی ہےتو وہ خوف الٰہی سے سرشار معلوم ہوتے ہیں، ہرنمازکےوقت وہ ایسے سکون و وقار کے ساتھ صف بہ صف ہوتے ہیں کہ آپ نہ کوئی شوروشغب سنیں گے اور نہ کسی طرح کی سرگوشی محسوس کریں گے، نمازکی یہ کیفیت مجھے تابعین اور سلف صالحین کے عہد کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ ان کے پاس تعلیم کےمحدود وسائل ہیں اس کےباوجود وہ اپنے بادبانوں کےساتھ علم ومعرفت کے بحربیکراں میں غوطہ زنی کرتےہیں؛ تاکہ ان کی کشتیاں ساحل سمندر پرلنگر انداز ہوجائیں؛ تاکہ وہ اسلامی سرزمین تک پہنچ جائیں۔ انہوں نےاپنےشیخ اوراساتذہ سےادب وسلوک اور علم ومعرفت کا وہ جام نوش کیا ہےجوانہیں بہترین راستے کی طرف لے جانے والا ہے۔ وہ مشقت برداشت کرنےکےعادی ہیں اوروہ ایسی تربیت پا رہے ہیں جوانھیں مستقبل میں اس عظیم ملک کا سچا داعی بنادے گا۔
بلاشبہ اس جامعہ نے علم وعمل اور معرفت وسلوک کوایک دوسرے سے ایسا مربوط کردیا ہے کہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، اس لیے کہ علم بغیر اخلاق کے اس بیج کی طرح ہےجوثمرآور نہ ہوسکےاوراخلاق بغیر علم کے ضلالت وگمراہی ہے۔ یہی علمی وروحانی اور صوفی تربیت اس جامعہ کا طرہ امتیاز ہے۔ آج جب کہ عالم اسلام مشکل حالات سے نبردآزما ہے ایسے میں اس علم کی ضرورت ہےجو حلم و بردباری سےمزین ہو اور اس علم کی حاجت ہے جس میں عمل کی ہم آہنگی ہو، یہ حالات اس بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ علم وعمل اورادب وسلوک ہرلحاظ سے قرآنی تعلیمات کو عمل میں لایا جاۓ تاکہ اسلام اپنے عہد ماضی کی طرف لوٹ آئے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس جامعہ کو منار ۂ علم وحکمت اور نشان علم وحلم بناۓ اور اسے ایسا سرچشمہ بناۓ جس سے ہرطرح کے خیروفلاح کےسوتے پھوٹتے رہیں۔
ترجمہ: ساجد الرحمن شبر مصباحی
شيخ الجامعة العارفية ومعلموها وطلابها
لقد شاءت إرادة الله سبحانه وتعالی أن أكون مبعوثًا للأزهر الشریف لدولة الهند في الجامعة العارفیة بسید سراوان الله آباد. وذلك بعد ذهابي لدولة مالیزیا لعامین، ونظرًا لظروف ما لم أكمل بعثتي هناك، وكم كنت حزینًا لذلك، ولكن الإنسان لایعلم الغیب، ولا یدري موطن الخیر، كما قال جل شأنه: ﴿وَعَسٰۤی أَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ وَعَسٰۤی أَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ أَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ [البقرة:216].
لم أكن أعلم أن الله عز وجل قد ادخر لي الخیر بذهابي لدولة الهند في الجامعة العارفیة؛ فكان منعه عین عطائه لي حیث شرفت بذهابي وعملي في هذه الجامعة العریقة. وقد استقبلتني الجامعة استقبالًا عظیمًا لائقًا بمبعوثي الأزهرالشریف مع حفاوة وإكرام وحسن ضیافة، وكان فضیلة الشیخ أبو سعید إحسان الله المحمدي الصفوي علی رأس المستقبلین لنا، وبعد حسن الضیافة وكرم القری تسلمت عملي في الجامعة العارفیة معلمًا للقرآن الكریم وعلومه، وقد أذهلني ما رأیت في هذه الجامعة فقد رأیت فیها عجبًا.رأیت شیخًا وقورًا علیه سیم الصالحین، و وشاح المقربین ورداء الطیبین، قد أتاه الله علمًا وحلمًا، قد ربى معلميه فأحسن تربیتهم، وأدبهم فأحسن أدبهم، غرس فیهم فضائل الأخلاق، وأشربهم مكارم الحسن ومعرفة الأذواق، ولم لا؟ وهو قدوتهم في العبادات وأسوتهم في الأخلاق والطاعات، قد أسلم علی یدیه المئات، وقد ذاع صیته وانتشر أریجه، وهو مع ذلك فیهم كأحدهم تواضعًا، قد اقترب منهم مع علو قدره عندهم، لایبدءونه بالكلام إجلالًا، ولا یبتدرونه تعظیمًا وإفضالًا، وهو رجل دءوب لا یدخر في الخیر وسعًا، ولا یألو جهدًا في تحسین الجامعة؛ فهو یسير بها إلی طریق ینتهي بعز للإسلام والمسلمین. أسأل الله تعالی أن یطیل عمره حتی یكتمل بنیانها وترسو دعائهما.أما المعلمون فیا جمال ما رأیت! رأیت علماء حسنت أخلاقهم وعلت نفسوهم، یخفضون أجنحتهم لطلابهم، زانوا علمهم بالحلم، وكسوا كلامهم بالأدب الجم، یربون قبل أن یعلموا، ویغرسون الأخلاق قبل أن یدرسوا، یجلسون بجانب طلابهم جنبًا إلی جنب بتواضع جم، ونفوسهم راضیة، ومع ذلك علت أقدارهم عند طلابهم؛ فقد شربوا منهم الفضائل والأخلاق قبل المعارف.
أما الطلاب فما أجمل ما رأیت! كلما نظرت إلیهم رجع عقلي وذهب بصري وانتهی سمعي إلی عصر التابعین.رأیت زهدهم في الدنیا وإقبالهم علی العلم یفترشون الأرض ونفوسهم في السماء عند العلم فرسانًا، وعند الآذان والطاعة رهبانًا، في كل صلاة یصفون في سكینة ووقار لا تسمع صوتًا ولا تجد همسًا؛ إنها صورة تذكرني بما قد سلف من عصر التابعین والسلف، ومع قلة الإمكانیات ووسائل التعلیم عندهم فهم مع ذلك یمخرون بحار العلم ویلاطمون أمواج المعرفة بأشرعتهم لترسو سفنهم علی شاطئ العلم لیصلوا إلی أرض الإسلام، قد شربوا من شیخهم ومعلمیهم الآداب والسلوك والمعارف التي توصل إلی أفضل الطریق.لقد تمرست نفوسهم علی تحمل المشاق، وتربوا تربیة تجعلهم بحق دعاة المستقبل في هذا البلد الكبیر، إن هذه الجامعة تربط العلم بالعمل والمعرفة بالسلوك، فهما لا ینفصلان: فعلم بلاخلق كزرع بلا ثمر وخلق بلا علم ضلال.إن هذه التنشئة العلمیة الروحیة الصوفیة هي ما یمیز هذه الجامعة. والعالم الإسلامي الیوم یمر بظروف صعبة تحتاج إلی علم زانه حلم، وإلی معرفة وافقها السلوك، یحتاج إلی تطبیق القرآن الكریم علمًا وعملًا وأدبًا وسلوكًا حتی یعود الإسلام إلی سابق عهده. أسأل الله أن یجعل هذه الجامعة منارة للعلم وعلمًا علی الحلم ومصدرًا وأما یولد منها كل خیر وفضیلة.الشيخ القارئ عبدالله البنا










No comments:

Post a Comment

اپنی رائے پیش کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????