کسی چیز کا عالم ہونا اور بات ہے اور عارف ہونا اور بات ، کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے کسی چیز کا مشاہدہ کرلیا ہو لیکن ابھی ہمیں اس کا عرفان حاصل نہ ہوا ہو۔ مثلا:چلغوزے کے بارے میں جب ہم نے کتابوں میں پڑھا، تو ہم اس کے عالم ہوگئےاور اگر کسی نے چلغوزہ لاکر ہمارے پاس رکھ دیا اور ہم نے اس کا مشاہدہ بھی کرلیا تو اب ہمیں اس کے علم کے ساتھ اس کا مشاہدہ بھی ہو گیا، مگر جب تک ہم اس کو کھائیں گے نہیں اور اس کے ذائقے سے لطف اندوز نہیں ہوں گے، ہمیں اس کا عرفان حاصل نہیں ہوگا۔
علم اور عرفان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ علم کا اطلاق شعوروادراک کی سطح پر ہوتاہے جب کہ عرفان ذوق ووجدان سے متعلق ہوتاہے۔علم سے اندرونی کیفیات و جذبات پر کوئی گہرااثر نہیں پڑتا، جب کہ معرفت سے باطن کے اندر ایک ہیجان پیدا ہو جاتاہے، جیساکہ قرآن مقدس میں ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ(مائدہ: ۸۳) ترجمہ : جب وہ رسول کی طرف نازل کی گئی باتوں کو سنتے ہیں تو تم ان کی آنکھوں کو عرفان حق سے چھلکتے ہوئے دیکھوگے۔
اللہ رب العزت ہی کائنات کا خالق و مالک ہے ،وہی حاکم مطلق ہے، ـ وہ موجود ہے، وہ أقرب من حبل الورید ہے۔ معرفت کے لیے صرف ان باتوں کا عالم ہونا کافی نہیں کیوں کہ ـ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ انسان دلائل کے ذریعے اپنے رب کے وجود کو ثابت کردے اور اس کے باوجود اس کواصل عرفان حاصل نہ ہو۔ حقیقی عرفان یہ ہے کہ ہمارا ہر آن اور ہماری ہرسانس اس کی موجودیت، حاکمیت اور ربوبیت کے کامل یقین اور یاد کے ساتھ گزرے ـ۔ع
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
اللہ کے عرفان میں ہی بندے کا کمال ہے اور وہی مقصود تخلیق بھی ہے: ـوَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ـ(الذاريات:۵۶) یعنی ليعرفون تخلیق کا مقصد اس کی معرفت کا حصول ہے ـ اللہ کی معرفت ہی اصل بندگی ہے ـ اوریہ کیسے ممکن ہے کہ بندے کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو اور بندہ اپنے رب کے احکام و ہدایات سے غافل ہوـ۔
اس عرفان کے ساتھ زندگی کا ہر پل عبادت ہے ـ ،فرائض و واجبات کی ادائیگی ہو یا زندگی کے معمولات، سب ذکر کا ہی حصہ ہوں گے ـ ،عبادات، معاملات، اخلاقیات سب میں مزید حسن بلکہ حسن کا کمال پیدا ہوجائے گا ـ۔
حقوق اللہ ہو یا حقوق العباد سب کی ادائگی کمال کے ساتھ ہوگی ـ۔تمام عبادات و معاملات کا مقصود رب کا عرفان ہے اور رب کا عرفان ہی تمام عبادات و معاملات کا حسن وکمال ہے ـ۔
جس طرح اہل علم کے درجات ہیں اسی طرح اہل معرفت کے بھی درجات ہیں، بعض بعض سے اعلیٰ و ادنی ہیں۔ توحید کی معرفت متکلمین کو بھی ہے اور صوفیہ کو بھی مگر صوفی کی معرفت متکلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے اقویٰ و اتم ہے۔ کیوں کہ صوفیہ کی معرفت شہودی ہے اور متکلمین کی معرفت استدلالی ہےاور استدلالی طریقہ شہودی طریقہ سے کمزور ہوتا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں:
پائے استدلالیاں چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود
استدلال کی بنیاد لکڑی کے پیر جیسی ہوتی ہے، اورلکڑی کا پیر بہت کمزو رہوتاہے ۔ ڈاکٹر اقبال کہتےہیں:
بو علی اندر غبارِ ناقہ گم
دستِ رومی پردۂ محمل گرفت
بو علی سینا محبوب کی اونٹنی کے گردو غبار میں مست ہے جب کہ رومی کے دست شوق کی رسائی محبوب کے کجاوے تک ہو گئی ہے۔
0 تبصرے
اپنی رائے پیش کریں