Hujjatul Islam Imam Muhammad Al Ghazali Ki Taleemat

google.com, pub-3332885674563366, DIRECT, f08c47fec0942fa0

حجۃ الاسلام امام محمد غزالی  کی تعلیمات
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی ذات محتاج تعارف نہیں۔وہ اپنے وقت کے بہترین عالم،عظیم اسلامی مفکراورعارف باللہ تھے۔اصل نام محمد بن محمداور کنیت ابوحامدہے۔ان کی پیدائش ملک’’خراسان‘‘کے شہر ’’طاہران‘‘ قصبہ’’طوس‘‘میں۴۵۰ہجری مطابق۱۰۵۲ عیسوی میں ہوئی۔شیخ ابوفضل بن محمدفارمدی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت حاصل کی اور تصوف وسلوک کے اعلیٰ سے اعلیٰ منازل طے کیے اور ۵۴؍ سال کی عمر میں ۲۴؍ جمادی الاول ۵۰۵ ہجری میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔خدارحمت کند ایں پاک طینت را۔(ادارہ)
دنیا فانی ہے اور اس میں مشغول ہونے کا نقصان نفع سے زیادہ ہے اور دنیامیں پیش آنے والی پریشانیاں اس کی آسانیوں سے زیادہ ہیں،جیسے جسمانی تکلیفیں، مسائل ِدنیا میں دل کا لگارہنا اور پھرآخرت میں ہر چیز کاالگ الگ حساب اور ایسا دردناک عذاب جس کے برداشت کرنے کی تجھ میں ہرگز طاقت نہیں، یعنی جب دنیا اور سامان دنیا میں نقصان ہی نقصان ہے تو تجھ پر لازم ہے کہ دنیا کی چیزیں صرف اسی قدر استعمال میں لائے جس سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں تجھے مدد مل سکے اورہمیشگی کی نعمتوںاورلذتوں  کے لیے جنت کاانتظارکرتارہ، جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔
اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ مخلوق میں وفاداری نہیں اور اس کی طرف سے فوائدکے بجائے تکلیف اور نقصان زیادہ پہنچتا ہے، تو تجھے چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ لوگوںسے میل جول نہ رکھے ،نیک باتوں میں ان سے نفع حاصل کرے اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچے ، ا ن لوگوں سے دوستی بڑھا جن کی دوستی ہر قسم کے نقصان سے پاک ہے اور ان کی اطاعت کر جن کی اطاعت سے تجھے پشیمانی نہیں ہوگی ، اللہ کی مقدس کتاب کو اپنارہنما بنا اوراس کے احکام کی پوری پوری پابندی کرتا رہ۔
ایساکرنے سے اللہ تعالیٰ ہرحال میںتمہاری مدد کرے گا، وہم وگمان سے زیادہ تجھ پر انعام واکرام کی بارش کرے گااوردنیاوآخرت میں ہرمشکل وقت میں تیری فریادرسی کرے گا،جیساکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشادمبارک ہے:
’’اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدُہٗ حَیْثُ اِتَّجَھْتَ۔‘‘
یعنی اگر تم اپنے کو اللہ کی ہی پناہ میں دے دوگے تو جدھر تم متوجہ ہوگے اُدھر ہی اسے موجود پائوگے۔
اور تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان خبیث ہے اور ہر وقت تجھ سے دشمنی پر کمربستہ رہتاہے تو اس کتے سے بچنے کے لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتارہ، اور کسی وقت بھی شیطان کی مکاریوں اور عیاریوںسے غافل نہ ہو،بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکرسے اس کتے کو بھگادے۔جب تو اپنے اندراللہ کے دوستوں جیسا عزم اور یقین پیداکرلے گاتو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس مردودشیطان کی کوئی چال تجھے کچھ تکلیف اور ضرر نہیں پہنچاسکے گی،اللہ تعالیٰ خودفرماتاہے:
’’اِنَّہ لَیْسَ لَہ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔‘‘(سورہ نحل، آیت:۹۹)
یعنی یقینااللہ پہ ایمان لانے والوں اور اس پر بھروسہ رکھنے والوں پرشیطان کابس نہیں چلتا۔
ابوحازم رحمۃ اللہ علیہ نے بالکل درست فرمایا ہے کہ دنیا کی حقیقت تو یہ ہے کہ جو گزرگئی وہ گویا ایک خواب ہے اور جو باقی ہے وہ آرزوئیں ہیں اور شیطان کی حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ی کرے تو بھی اس سے اللہ تعالیٰ کاکوئی فائدہ نہیں اور اگر نافرمانی کرے توبھی اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں۔
اور جب یہ واضح ہے کہ نفس انتہائی نادان ہے، نقصان دینے والی اورہلاک کرنے والی چیزوں پرفریفتہ ہے ، تو عقلمنداور انجام سے  با خبر علما کی طرح نفس پر گرفت مضبوط رکھ، جاہلوں اور بچوں کی طرح نہ ہوجو صرف جلد حاصل ہونے والے فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں، اسی لیے وہ نفس کی بیماریوں اور خرابیوں کو نہیں دیکھتے اور زہدوتقویٰ کی کڑوی دواسے بھاگتے ہیں۔
 تواپنے نفس کو تقویٰ کی لگام دے ،اسے ہر طرح کی برُی چیزوں سے روک جن میں یہ گرفتارہے، جیسے فضول گفتگو،بری نگاہ،شہوت ،ضرورت سے زیادہ کھانا ،لمبی امیدیں، جلدبازی اور مسلمانوں کے ساتھ حسدوتکبر ۔ لہٰذا صرف وہی چیزیں اسے دے جو ضروری ہیں اوربے کارکی باتوںسے اسے بچا،کیونکہ جب انسان زہدوتقویٰ کی زندگی اختیارکرتاہے تواللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی طرح اس کو بھی اپنی رحمت میں لے لیتاہے اور اپنے فضل سے اس کے ایمان کو نقصان پہنچانے والی چیز سے محفوظ رکھتاہے۔جب خوداللہ تعالیٰ زہدوتقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے انسان کے کاموں کی کفالت کرنے لگتا ہے تو فضول اور بے کار چیزوں میں مشغول رہنے کی ضرورت اور حاجت ہی کیاہے۔
بعض صالحین نے فرمایاہے:میرے لیے تقویٰ آسان ہے ،کیونکہ جب مجھے کسی چیز کے جائز اورناجائزہونے میں شک ہوتا ہے تو میں اسے ترک کردیتا ہوں۔ اس لیے کہ میرا نفس میرافرمانبردارہوچکاہے جو عادت میں اُسے ڈالوں گا وہ اس کا عادی ہوجائے گا اور بے شک نفس کایہی حال ہے،جیسا کہ ایک عربی شاعرنے بیان کیا ہے:
فَالنَّفْسُ رَاغِبَۃٌ اِذَارَغَبَتْھَا
وَاِذَا تَرُدُّ اِلٰی قَلِیْلٍ تَقْنَعُ
  یعنی نفس کو جب تو کسی چیز کی طرف مائل کرے تو وہ مائل ہوجاتا ہے اور جب تھوڑی چیز پر صبر کرنے کا عادی بنالے تو وہ اُسی پر راضی ہوجاتاہے۔
(منہاج العابدین،ص:۱۶۸تا۱۷۰)


0 تبصرے

اپنی رائے پیش کریں