Namaz Ki Shartein

google.com, pub-3332885674563366, DIRECT, f08c47fec0942fa0

نماز کی شرطیں
حافظ مولانا محمد یعقوب
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ۝۴۵(عنکبوت)
ترجمہ: بیشک نماز بے حیائی اور بری چیزسے روکتی ہے۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ ا س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قیامت میں سب سے پہلے جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے سوال کرے گا وہ نماز ہے ،نماز نہ صرف اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوںکی ٹھنڈک بھی ہے۔
  حدیث پاک میں ہے:
أحَبُّ الْأعْمَالِ إلَی اللّٰہِ الصَّلٰوۃِ لِأوَّلِ وَقْتِھَا۔
یعنی اللہ تعالی کے نزدیک تمام اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ پہلی فرصت میں نمازاداکی جائے۔
چنانچہ نماز کی شرطیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ نماز کی ادائیگی  میں کوئی نقص نہ رہ جائے ۔ 
نماز کی چھ شرطیں ہیں:
 ٭طہارت:یعنی نمازی کے بدن کا ہر طرح کی نجاست سے پاک ہونا، اس جگہ کا پاک ہوناجس جگہ پر نماز پڑھناہے اورلباس کاپاک ہونا۔
٭ستر عورت:عورت بدن کے اس حصے کو کہتے ہیں جس کا چھپانا فرض ہے۔ستر کامعنی چھپانا ہے، سترمرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک کا حصہ عورت ہے اور اس کا چھپانا فرض ہے۔
٭استقبال قبلہ:یعنی نماز میں کعبہ کی طرف منھ کرنا۔ استقبال قبلہ عام ہے کہ بعینہ کعبہ معظمہ کی طرف منھ ہو جیسے مکہ مکرمہ والوں کے لیے یا اس کی جہت کو منھ ہو جیسے مکہ سے باہروالوں کے لیے ۔
مسئلہ: جو شخص استقبال قبلہ سے عاجز ہو مثلاً مریض ہے اس میں اتنی طاقت نہیں کہ ادھر اُدھر رخ بدل سکے ،وہاں اور کوئی شخص نہیں جو متوجہ کردے تو اس صورت میں جس رخ پر نماز پڑھ سکے پڑھ لے اس پر اعادہ نہیں ہے۔
٭وقت:یعنی شریعت میں جو اوقات مقرر ہیں انھیںا وقات میں نمازاداکرنا 
٭نیت:نیت دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں،یعنی جو نمازفرض،واجب اورسنت ونفل اداکررہاہو،اس کا ارادہ کرے۔
مسئلہ: زبان سے کہہ لینا مستحب ہے اور اس میں عربی زبان کی تخصیص نہیں اردو فارسی میں بھی ہو سکتی ہے۔
مسئلہ:مقتدی نے اگر اقتدا کی نیت کی کہ جو نیت امام کی وہی نماز میری تو جائز ہے۔
٭تکبیر تحریمہ:  اللہ اکبر کہنا
مسئلہ:جن نمازوں میں قیام فرض ہے ان میں تکبیر تحریمہ سے قیام فرض ہے۔ پس اگر بیٹھ کر اللہ اکبر کہاپھر کھڑا ہو گیا تو نماز شروع ہی نہ ہوئی۔
مسئلہ: اگر مقتدی نے امام سے پہلے تکبیر کہی تو اس کی اقتدا درست نہیں۔
(نماز کے فرائض اگلے شمارہ میں ملاحظہ کریں۔)

0 تبصرے

اپنی رائے پیش کریں